ابنا: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سلسلے میں قبل از وقت کچہ نہيں کہناچاہتا اوراس کاتعلق اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے ہے۔انہوں نے صہیونی ریاست اور فلسطین کے درمیان سازباز مذاکرات کی بحالی کے بارے میں کہا کہ میں نے ہمیشہ دونوں فریقوں سے کہا ہے کہ اس مسئلے کو جنرل اسمبلی میں پیش کریں۔ پروگرام کےمطابق فلسطینی انتظامیہ کےصدرمحمودعباس نےمذاکرات میں صہیونی ریاست کی خلاف ورزیوں اورفلسطینی علاقوں میں صہیونی کالونیوں کی تعیمرکاسلسلہ جاری رہنےکی بناپرستمبرکےمہینےمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےاجلاس میں فلسطین کوایک خودمختارملک کی حیثیت سےتسلیم کئےجانےکامطالبہ کرنےکافیصلہ کیاہے۔اب تک ایک سوتیس سےزيادہ ملکوں نےخودمختارفلسطینی مملکت کےقیام کےاعلان کی حمایت کی ہے۔فلسطینیوں کوحاصل عالمی حمایت سے صہیونی ریاست اور یورپ وامریکہ میں اس کےحامیوں کوتشویش لاحق ہوگئی ہے۔اس تشویش کی وجہ سےصہیونی حکام اور اس کےحامی جوفلسطینیوں کواقوام متحدہ میں اپنی تجویزپیش کرنےسےباز رکھنےیاکم سےکم اسےموخرکرنےکی کوششیں کررہےہيں۔فرانس جیسی بعض مغربی حکومتوں کی جانب سےسازبازمذاکرات کوبحال کرنے کی کوشش، فلسطینی انتظامیہ کی مالی امداد بندکردینےکی امریکی دھمکی، اورفلسطینیوں پردباؤ ڈالنےکےلئےصہیونی حکام کےصلاح ومشورے وہ جملہ اقدامات ہيں جواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےاجلاس میں خودمختارفلسطینی مملکت کوتسلیم کئےجانے کوروکنےکےلئےانجام دییےجارہےہيں۔فرانسیسی حکام نےامریکہ کی مدد سےکچہ دنوں پہلےفلسطینی انتظامیہ اورصہیونی حکام سےبات چیت کی تھی تاکہ سازبازمذاکرات کوپھرسےشروع کرنےکےلئےپیرس میں ایک اجلاس میں شرکت کرنےپرراضی کرسکیں۔مغربی حکومتيں جو صہیونی ریاست کےوجودکےتحفظ کی حامی ہيں یہ کوشش کررہی ہیں کہ معطل پڑےہوئےسازبازمذاکرات کوپھرسےشروع کرکےفلسطینی ریاست کی تشکیل کی بڑھتی ہوئی حمایت کوروک دیں۔اس کےساتھ ہی صہیونی حکام نےبھی جوخودمختارفلسطینی مملکت کےقیام کواپنےلئےالمیہ سمجھتےہيں، حکومتوں کوخودمختارفلسطینی مملکت کی تجویز کی حمایت نہ کرنےپرآمادہ کرنےکےلئےبڑےپیمانےپراقدامات شروع کردیےہيں۔ اس سلسلےمیں روزنامہ یدیعوت احارونوت نےلکھاہےکہ صہیونی وزیراعظم نتن یاہو، ستمبرمیں رونماہونےوالےممکنہ واقعہ کےسلسلےمیں بہت تشویش میں مبتلاہیں۔ صہیونی ریاست کی وزارت خارجہ نےپیشگوئي کی ہےکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک سواٹھارہ ممالک خودمختارفلسطینی مملکت کےقیام کی حمایت کرسکتےہيں۔اس سلسلےمیں صہیونی ریاست کی تشویش اس حدتک بڑھ چکی ہےکہ صہیونی وزيرخارجہ آویگدورلیبرمین نےوزارت خارجہ کےڈائرکٹرکوحکم دیاہےکہ ان ممالک کی فہرست تیارکرےجنھوں نےابھی فلسطین کوخودمختارملک کی حیثیت سےتسلیم کيےجانےکافیصلہ نہيں کیاہےاورانھیں اس منصوبےکی مخالفت پرراضي کرنےکےلئے اقدامات کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز